Skip to main content

روایتی زندگی بمقابلہ جدیدیت(ماڈرن ازم)

 روایتی زندگی بمقابلہ جدیدیت(ماڈرن ازم)

ہمارے معاشرے میں جو نئے رجحانات سامنے آرہے ہیں ان کا تقابل گذشتہ دور سے کیا گیا ہے۔

اسلام سے پہلےدنیا ذہنی پسماندگی کا شکار تھی۔ اسلام نے ایک جدید سوچ عطا کی جس میں پچھلی زندگی سے لوگوں کو چھٹکارا ملا۔ اس لحاظ سے جدیدیت کا آغاز اسلام کی دعوت سے ہوا۔ اس وقت اس جدیدیت کے خلاف اکثریت نے مزاحمت کی اور یہ جواز پیش کیا کہ "ہم نے تواپنے آباؤاجداد کو ایسا کرتے نہیں دیکھا۔ اسی طرح ہر ادوار میں جدیدیت کی مخالفت کی گئی، لیکن اسلام کی آمد کو دیکھا جائے تو اس جدیدیت سے لوگوں کو فائدہ پہنچا اور غیر ضروری رسومات و توہمات کا خاتمہ ہوا۔ نتیجتاً اسلام نے انسان کی زندگی کو آسان کردیا۔

آنے والے ادوار میں جدیدیت کے نام پرنئے نئے رجحانات متعارف کروائے گئے جن کا بظاہر مقصد لوگوں کی زندگیوں کو سہل کرنا تھا لیکن اکثر رجحانات سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوا۔ اس مضمون میں موجودہ حالات کے حساب سے روایتی زندگی اور جدیدیت کا تقابل پیش کیا گیا ہے۔

سب سے پہلے روایتی اور سادہ زندگی کا خاکہ پیش کرتے ہیں۔ روایتی گھریلو زندگی میں ماں گھر میں کام کرتی اور بچوں کو سنبھالتی ہے، پورا گھر صاف ستھرا اور سلیقے سے سجا ہوتا تھا۔ بہنیں بھی ماں کا ہاتھ بٹاتی ہیں۔ بڑے بزرگ فارغ لیکن سب کے دکھ درد میں شریک نظر آتے تھے۔ گھر میں کوئی بھی مسئلہ ہو ان کا حل ہمارے بڑوں کے پاس ہوتا تھا۔ مرد صبح گھر سے کمانے جاتے تھے تو سہ پہر تک واپس آجاتے تھے، پھر گھر کے تکنیکی کاموں کی ذمہ داری انکے سر ہوتی تھی۔ رات میں مل کر ٹی وی دیکھا جاتا تھا یا پھر کتابیں پڑھی جاتی تھیں۔ لڑکیوں کی شادی میں جلدی کی جاتی تھی اور لڑکوں کے رشتے ان کے برسرِروزگار ہوتے ہی طے ہوجاتے تھے۔

تعلیم حاصل کرنا آسان اور جیب پر ہلکا ہوتا تھا۔ لڑکیاں بنیادی تعلیم کے بعد گھر بیٹھ جاتی تھیں اور لڑکے نوکری تلاش کرتے تھے۔ اعلٰی تعلیمی اسناد کے پیچھے بھاگنے کا رجحان نہ تھا۔ اعلٰی سرکاری تکنیکی درس گاہوں میں لڑکیوں کی نشستیں کم رکھی جاتی تھیں تاکہ لڑکوں کو داخلے کے زیادہ مواقع حاصل ہوں۔ زندگی سادہ اور عقل و شعور سے بھرپور تھی، زیادہ پیسہ کمانے کا رجحان کم تھا۔ خواہشات بھی محدود تھیں۔

اب ایک نظر جدید طرزِ زندگی پر ڈالتے ہیں۔ اسلام دینِ فطرت ہے لہٰذا جو جدید رجحانات فطرت کے عین مطابق ہوں وہی انسانوں کیلئے بہترین ثابت ہونگے بصورتِ دیگرنتیجا تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں۔ ایک رجحان لڑکیوں کی تعلیم پر زور ہے۔ ایک مشہور حدیث ہے کہ "علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے"، اس حدیث کو سازش کے تحت اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔ اب اس مفہوم سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو علم مرد حاصل کرے وہی عورت کو حاصل کرنا چاہیے۔ حالانکہ مرد اور عورت کو اللہ تعالٰی نے الگ ذہن اور جسم عطا کیا ہے، تو ضروری ہے کہ دونوں کے تعلیم کا میدان الگ الگ ہو۔ مثال کے طور پر جیسے پہلے خواتین ہوم اکنامکس کا مضمون اختیار کرتی تھیں اور میڈیکل سائنس میں گائناکولوجی۔ یہ مضامین سیکھ کر وہ معاشرے کیلئے کارآمد ثابت ہوتی تھیں۔

اب خواتین علم کے ہر میدان میں آگے آرہی ہیں جس سے مرد حضرات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ لڑکیاں تکنیکی مضامین میں لڑکوں کی نشست پر قابض ہوتی جارہی ہیں، تکمیلی مراحل کے بعد کارکردگی نہ دکھانے یا شادی کرکے گھر بیٹھ جانے کی صورت میں وہ نشست ضائع ہوجاتی ہے جبکہ لڑکے ان سے فائدہ اٹھاکر معاشرے کیلئے کارآمد ثابت ہو سکتے تھے۔ اکثر خواتین کوترجیحی بنیاد پرملازمتیں مل جاتی ہیں اور لڑکے بےروزگار رہ جاتے ہیں تو اس صورتحال میں لڑکے مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ایک بگاڑ رشتوں کی کمی کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔ لڑکیاں اعلٰی تعلیم اور ملازمتیں کررہی ہیں تو انکو مناسب رشتے نہیں مل پاتے، اس سے معاشرے مجرد زندگی گزارنے کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔ اور اگر شادی ہو بھی جائے تو ملازمت یافتہ خواتین بچوں کا خیال نہیں رکھ پاتی جس سے بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما میں کمزوری غالب آجاتی ہے۔ آزاد ماحول کے نتیجے میں طلاق کے مسائل میں بھی اضافہ نظر آرہا ہے۔

روایتی زندگی سادہ ہوا کرتی تھی، جدیدیت نے دکھاوے کی زندگی کو جنم دیا۔ اب اس دکھاوے کیلئے لوگ دن رات محنت کررہے ہیں اور جو اوقات اپنی ذاتی زندگی کے مشاغل کیلئے مخصوص ہوتے تھےان میں کمی آتی جارہی ہے۔ غیر فطری جدیدیت معاشرے میں ذہنی بیماریوں کا سبب بنتی جارہی ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اعلٰی تکنیکی تعلیمی اداروں میں خواتین کی نشستیں کم سے کم ہوں، ملازمتیں مخصوص اداروں میں اور محدود ہوں۔ دیگر اداروں سے خواتین کو فارغ کرکے گھر بٹھایا جائے اور نوجوان لڑکوں کو موقع دیا جائے۔ اسی سے خاندانی نظام بہتر طریقے سے چل سکتا ہے۔

Comments

Popular Posts

نواز شریف

جب سے مملکتِ پاکستان کا قیام وجود میں آیا ہے تب سے ہی یہاں سیاسی استحکام کا فقدان رہا ہے۔ قائدِ اعظمؒ، لیاقت علی خانؒ اور دیگر حکمرانوں نے کچھ عرصہ تک ہی حکومت کی ذمہ داریاں اٹھائیں، لیکن باقائدہ حکومت کا آغاز جنرل ایوب خان کی صدارت سے شروع ہوا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسی دورِ حکومت میں پاکستان نہ صرف اپنے پیروں پر کھڑا ہوا بلکہ اس کا شمار ایشیاء کے ترقی یافتہ ممالک میں ہونے لگا۔ پاکستان کے خلاف سازش کرنے والے عناصر جانتے تھے کہ جب بھی یہاں مستحکم حکومت ہوگی تو ملک ترقی کرے گا۔ لہٰذا مختلف ذرائع استعمال کرکے ہمارے دشمن پاکستانی قوم میں مایوسی پھیلاتے رہے اور اس وقت کی موجود، حکومت کے خلاف الزامات کے ذریعے لوگوں کو حکومت سے بیزار کرنے کی کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ پرویز مشرف جیسے امریکہ کو سجدہ کرنے والے، وقت کے فرعون، کو بھی حکومت سے محروم ہونا پڑا۔ پاکستانی عوام میں تعلیم اور شعور کی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ باآسانی سازشوں کا شکار ہوجاتے ہیں اور تبدیلی کی خواہش مند ہوجاتے ہیں۔ یہ نہیں غور کرتے کہ حکومت مستحکم ہے، ترقیاتی کام چل رہے ہیں، زندگی اچھی گزر رہی ہے، تمام کاروبارِ زندگی عمد...

داڑھی کا جواز

  داڑھی کا جواز اگر کوئی شخص کہے کہ سر پر ہمیشہ استرا پھیرنا چاہیے تاکہ انسان بالوں سے پیدا ہونے والی پریشانیوں سے بچا رہے، اگر بال ہونگے تو جوئیں بھی ہونگی، بال لمبے ہوکر منہ پر آئیں گے، بال ہوا سے بکھر تے رہیں گے اور انسان ان میں جنگلی لگے گا لہٰذا سر کے بالوں کے بغیر انسان زیادہ خوبصورت لگے گا، تو ایسے شخص کو آپ کیا جواب دیں گے؟ ظاہر ہے کہ اس شخص کو کہا جائے گا کہ بال اگنا ایک قدرتی عمل ہے، اس کو روکنے کے بجائے ہمیں ان کو آراستہ کرنا چاہیے، ان کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا چاہیے تو یہ بال ہماری شخصیت میں خوبصورتی کا باعث بنیں گے بہ نسبت ٹنڈ کے! یہی جواب اصل میں داڑھی کے جواز کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کیلئے فتاویٰ کی ضرورت نہیں۔ قدرت نے داڑھی مرد کو عطاء کی ہے۔ اب مردوں کا کام ہے کہ اپنے چہروں کو روزانہ چھیلنے کے بجائے داڑھی کو بڑھنے دیں اور اس کو آراستہ کریں اور اپنی مردانگی کا ثبوت اپنے چہروں سے دیں۔ کچھ لوگ اپنی گفتگو میں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ فلاں شخص داڑھی رکھ کے جھوٹ بول رہا ہے، یا کچھ افراد نے داڑھی رکھی ہوئی ہے اور خواتین کو دیکھتے پھرتے ہیں۔ ایسے لوگ...

ناران کی سیر

 ناران کی سیر راولپنڈی سے ناران کے سفر کی روداد جو ذاتی مشاہدے پر مشتمل ہے۔ اس سفرنامے میں مزید اہم مقامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اپنے شہر سے دور کوئی بھی سفر کرنے سے پہلے اس سے متعلق معلومات حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ شمالی علاقوں کا تفریحی دورہ کرنا ہو اور ہر قسم کی مشکلات سے محفوظ رہنا چاہتے ہوں تو بہتر ہے کہ کسی سیاحتی گروپ یا کمپنی کے ساتھ سفر کیا جائے۔ سیاحتی کمپنی کے خرچے تو زیادہ ہوتے ہیں لیکن یہ آپ کو اتنی سہولیات فراہم کرتی ہیں کہ آپ ہر قسم کی کوفت سے بچ جاتے ہیں۔ اگر آپ محدود خرچے میں ناران کی سیاحت کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو راولپنڈی سے گائڈ کی خدمات حاصل کرنا ہونگی، اس کیلئے آپ پہلے سے معاوضہ اور مقامات طے کرسکتے ہیں۔ کچھ گائڈ آپ کو مناسب داموں میں ہوٹل کے کمرے اور طعام کا بندوبست کرواسکتے ہیں۔ جتنا تجربے کار گائڈ آپ کو ملے گا اتنا ہی آپ کا سیاحتی سفر بہتر ہوگا۔ جو حضرات اپنے گھر کی خواتین اور بچوں کے ساتھ ناران کا سفر کرنا چاہتے ہیں تو یہ بات مدِنظر رکھیں کہ ان کو طویل سفر کرنا ہوتا ہے اور آپ کو آرام کے کم مواقع میسر آسکتے ہیں۔ مجوعی طور پر یہ سیاحتی دورہ آپ کو تھکن میں مبت...