Skip to main content

ابنِ صفی کی جاسوسی دنیا

 ابنِ صفی کی جاسوسی دنیا

ابنِ صفی کا ایک شاہکار سلسلہ جاسوسی دنیا کے نام سے مشہور ہے۔ اس سلسلے میں احمد کمال فریدی اور ساجد حمید اہم کردار ہیں۔ جاسوسی دنیا کے ناول اپنے زمانے میں انتہائی مقبول ہوئے۔ اس مضمون میں تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔

تعارف

ابنِ صفی کا اصل نام اَسرار احمد ہے۔ آپ اترپردیش کے گاؤں "نارا" میں، 26 جولائی 1928ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کا انتقال 26 جولائی 1980ء کو کراچی میں ہوا اور ناظم آباد میں پاپوش نگر کے قبرستان میں آپ کی تدفین ہوئی۔ آپ کا سب سے پہلا جاسوسی دنیا کا ناول "بھیانک مجرم" مارچ 1952 میں شائع ہوا جب کہ اسی سلسلے کا آخری ناول "صحرائی دیوانہ" جولائی 1979 میں منظرِ عام پر آیا۔ ابنِ صفی تقریباً تین سال تک عارضے میں مبتلاء رہے جس کے دوران ناول نہیں لکھے گئے۔ آپ نے ایک فلم کا اسکرپٹ بھی لکھا جس کا نام "دھماکہ"تھا لیکن یہ فلم کامیاب نہ ہوسکی۔ (بحوالہ وکی پیڈیا)

علمیت

ابنِ صفی کے تقریباً تمام ہی ناول ایک شاہکار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان ناولوں کو پڑھ کر قاری محوِحیرت میں گم ہوجاتا ہے۔ معلومات کا دریا ایک کوزے میں بند ملتا ہے۔ انِ صفی کے ناول محض جاسوسی ہی نہیں بلکہ فلسفہ، نفسیات، سائنس اور علم الحیوانیات وغیرہ کا بھی احاطہ کرتے نظر آتے ہیں۔ تعلیمی لحاظ سے بھی آپ کے ناول اہمیت رکھتےہیں۔ نفسیات کے طلباء کو آپ کے ناولوں کا مطالعہ لازمی کرنا چاہئے۔ خواتین کی نفسیات، مجرموں کی منصوبہ بندی، جدید جاسوسی آلات، سانپوں اور کتوں کی عادات و اقسام وغیرہ سے متعلق معلومات ایک قاری کو آگاہی فراہم کرتی ہیں جو اس کو کہیں اور سے ملنا دشوار ہے۔

حقیقت اور افسانہ

ایک افسانے میں مصنف اپنی مرضی سے کچھ بھی لکھ سکتا ہے لیکن انِ صفی نے ناول نگاری میں حقیقت کا زیادہ استعمال کیا ہے۔ مثال کے طور پر افریقی سانپ بلیک ممبا ایک حقیقت ہے افسانہ نہیں۔ اسی طرح کتوں کی سب سے خطرناک نسل بلڈ ہاؤنڈ کی عادات، حملہ کرنے اور شکار کو ختم کرنے سے متعلق جو معلومات دی گئی ہیں وہ سب مستند ہیں۔ افریقی نسل کا کتا یلو ڈنگو کے متعلق تو اکثر لوگوں کو معلوم ہی نہیں ہوگا۔ پراسرار کنواں ناول کے ایک کردار طارق کے نیولے سے مشابہ جانور سے متعلق معلومات بھی حقیقت اور افسانے کا حسین امتزاج ہے۔

زبان و بیاں

ابنِ صفی نے اپنے ناولوں میں مشرقیت کو فوقیت دی ہے۔ دیگر مصنفین کی طرح بلاوجہ غیر ملکی کرداروں کو استعمال نہیں کیا۔ بڑے مجرم بھی اکثر دیسی ہی ہیں مثال کے طور پر جابر اور جیرالڈ شاستری۔ بظاہر تو جاسوسی ادب کے ناول انگلش ناولوں سے متاثر محسوس ہوتے ہیں لیکن ابن صفی نے بہت خوبصورتی سے اپنے ماحول اور زبان کو استعمال کیا ہے۔ ناولوں میں اردو زبان اتنی عمدہ اور خوبصورتی سے استعمال کی گئی ہے کہ بقول ایک تجزیہ نگار کے ابن صفی نے لوگوں کو اردو لکھنا،پڑھنا اور بولنا سکھایا۔ مکالمے میں استعمال ہونے والے الفاظ کا چناؤ بھی ایک کمال حیثیت رکھتا ہے۔

ناولوں میں فحاشی سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کی گئی ہے، عامیانہ انداز بھی نظر نہیں آتے۔ فریدی کی شخصیت تو ہے ہی بردبار لیکن ساتھ ساتھ حمید، عمران اور دوسرے کردار بھی فحش عورتوں سے دور ہی رہتے ہیں۔ جبکہ چند دوسرے جاسوسی مصنفین نے اپنے ناولوں کی مقبولیت کیلئے اکثر فحاشی کا ہی سہارا لیا ہے۔

جاسوسی دنیا کے کردار

ابنِ صفی نے کردار سازی میں بھی اپنے آپ کو منوایا ہے۔ فریدی کا کردار ایسا پراثر ہے کہ مجھے خود انِ صفی ہی کے اونپر پورا اترتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ یعنی کرنل احمد کمال فریدی کی شخصیت جناب اسرار احمد کا ہی پرتو ہے۔ فریدی کی شخصیت، ذہنی اور جسمانی قوتِ ارادی کی مشقوں کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے جن کا کئی ناولوں میں ذکر ہوا ہے۔ ایسی مشقوں سے متعلق دیگر کتب میں بھی مواد موجود ہے جن سے انسان اپنی مخفی قوتوں کو بڑھا سکتا ہے۔

کیپٹن ساجد حمید کا کردار فریدی کے بالکل الٹ محسوس ہوتا ہے۔ اکثر ناولوں میں حمید کا کردار اضافی محسوس ہوا لیکن بہرحال حمید کی حرکتوں سے ناول کا مزہ دوبالا ہوجاتا ہے خاص طور پر جنگل کی آگ میں سہرا حمید کے سر ہی رہا۔ انور اور رشیدہ کے کردار متاثر کن نہیں ہیں جن کا اظہار ایک پیشرس میں بھی کیا گیا ہے۔ طارق اور قاسم کے کردار لاجواب اور ناقابلِ فراموش ہیں، خاص طور پر قاسم کی موجودگی ناول کو مزاح سے بھرپور کردیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قاسم تقریباً ہر خاص نمبر میں موجود تھا۔

قابلِ ذکر ناول

اس میں شک کی گنجائش نہیں کہ ابنِ صفی کے تمام ہی ناول شاہکار ہیں (خاص طور پر جاسوسی دنیا کے ناول عمران سیریز کے ناولوں سے زیادہ متاثر کن ہیں) ان ناولوں میں کچھ ناول نسبتاً زیادہ سنسنی خیز اور تجسس سے بھرپور رہے ہیں، لیکن ان تمام ناولوں کا صرف نام ہی درج کیا جائے تو یہ مضمون ضخیم ہوجائے گا۔ لہٰذا صرف ان ناولوں کا نام دیا جارہا ہے جنہیں پڑھنے میں زیادہ مزہ آیا۔ یہ ذاتی پسند پر مشتمل فہرست ہے؛

پہاڑوں کی ملکہ، بھیانک جزیرہ، شاہی نقارہ، خطرناک دشمن، پاگل خانے کا قیدی۔

Comments

Popular Posts

نواز شریف

جب سے مملکتِ پاکستان کا قیام وجود میں آیا ہے تب سے ہی یہاں سیاسی استحکام کا فقدان رہا ہے۔ قائدِ اعظمؒ، لیاقت علی خانؒ اور دیگر حکمرانوں نے کچھ عرصہ تک ہی حکومت کی ذمہ داریاں اٹھائیں، لیکن باقائدہ حکومت کا آغاز جنرل ایوب خان کی صدارت سے شروع ہوا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسی دورِ حکومت میں پاکستان نہ صرف اپنے پیروں پر کھڑا ہوا بلکہ اس کا شمار ایشیاء کے ترقی یافتہ ممالک میں ہونے لگا۔ پاکستان کے خلاف سازش کرنے والے عناصر جانتے تھے کہ جب بھی یہاں مستحکم حکومت ہوگی تو ملک ترقی کرے گا۔ لہٰذا مختلف ذرائع استعمال کرکے ہمارے دشمن پاکستانی قوم میں مایوسی پھیلاتے رہے اور اس وقت کی موجود، حکومت کے خلاف الزامات کے ذریعے لوگوں کو حکومت سے بیزار کرنے کی کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ پرویز مشرف جیسے امریکہ کو سجدہ کرنے والے، وقت کے فرعون، کو بھی حکومت سے محروم ہونا پڑا۔ پاکستانی عوام میں تعلیم اور شعور کی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ باآسانی سازشوں کا شکار ہوجاتے ہیں اور تبدیلی کی خواہش مند ہوجاتے ہیں۔ یہ نہیں غور کرتے کہ حکومت مستحکم ہے، ترقیاتی کام چل رہے ہیں، زندگی اچھی گزر رہی ہے، تمام کاروبارِ زندگی عمد...

داڑھی کا جواز

  داڑھی کا جواز اگر کوئی شخص کہے کہ سر پر ہمیشہ استرا پھیرنا چاہیے تاکہ انسان بالوں سے پیدا ہونے والی پریشانیوں سے بچا رہے، اگر بال ہونگے تو جوئیں بھی ہونگی، بال لمبے ہوکر منہ پر آئیں گے، بال ہوا سے بکھر تے رہیں گے اور انسان ان میں جنگلی لگے گا لہٰذا سر کے بالوں کے بغیر انسان زیادہ خوبصورت لگے گا، تو ایسے شخص کو آپ کیا جواب دیں گے؟ ظاہر ہے کہ اس شخص کو کہا جائے گا کہ بال اگنا ایک قدرتی عمل ہے، اس کو روکنے کے بجائے ہمیں ان کو آراستہ کرنا چاہیے، ان کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا چاہیے تو یہ بال ہماری شخصیت میں خوبصورتی کا باعث بنیں گے بہ نسبت ٹنڈ کے! یہی جواب اصل میں داڑھی کے جواز کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کیلئے فتاویٰ کی ضرورت نہیں۔ قدرت نے داڑھی مرد کو عطاء کی ہے۔ اب مردوں کا کام ہے کہ اپنے چہروں کو روزانہ چھیلنے کے بجائے داڑھی کو بڑھنے دیں اور اس کو آراستہ کریں اور اپنی مردانگی کا ثبوت اپنے چہروں سے دیں۔ کچھ لوگ اپنی گفتگو میں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ فلاں شخص داڑھی رکھ کے جھوٹ بول رہا ہے، یا کچھ افراد نے داڑھی رکھی ہوئی ہے اور خواتین کو دیکھتے پھرتے ہیں۔ ایسے لوگ...

ناران کی سیر

 ناران کی سیر راولپنڈی سے ناران کے سفر کی روداد جو ذاتی مشاہدے پر مشتمل ہے۔ اس سفرنامے میں مزید اہم مقامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اپنے شہر سے دور کوئی بھی سفر کرنے سے پہلے اس سے متعلق معلومات حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ شمالی علاقوں کا تفریحی دورہ کرنا ہو اور ہر قسم کی مشکلات سے محفوظ رہنا چاہتے ہوں تو بہتر ہے کہ کسی سیاحتی گروپ یا کمپنی کے ساتھ سفر کیا جائے۔ سیاحتی کمپنی کے خرچے تو زیادہ ہوتے ہیں لیکن یہ آپ کو اتنی سہولیات فراہم کرتی ہیں کہ آپ ہر قسم کی کوفت سے بچ جاتے ہیں۔ اگر آپ محدود خرچے میں ناران کی سیاحت کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو راولپنڈی سے گائڈ کی خدمات حاصل کرنا ہونگی، اس کیلئے آپ پہلے سے معاوضہ اور مقامات طے کرسکتے ہیں۔ کچھ گائڈ آپ کو مناسب داموں میں ہوٹل کے کمرے اور طعام کا بندوبست کرواسکتے ہیں۔ جتنا تجربے کار گائڈ آپ کو ملے گا اتنا ہی آپ کا سیاحتی سفر بہتر ہوگا۔ جو حضرات اپنے گھر کی خواتین اور بچوں کے ساتھ ناران کا سفر کرنا چاہتے ہیں تو یہ بات مدِنظر رکھیں کہ ان کو طویل سفر کرنا ہوتا ہے اور آپ کو آرام کے کم مواقع میسر آسکتے ہیں۔ مجوعی طور پر یہ سیاحتی دورہ آپ کو تھکن میں مبت...