موجودہ پاکستانی فلمیں اور ڈرامے
اس پوسٹ میں ہم گزشتہ چند سالوں سے نشر ہونے والے ڈراموں اور فلموں کے رجحانات و موضوعات کا جائزہ لیں گے۔
ماضی کے پاکستانی ڈرامے اور فلمیں دیکھیں تو آپ کو احساس ہوتا ہے کہ یہ بہت حد تک ہماری تہذیب اور ثقافت کو اجاگر کرتے نظر آتے ہیں۔ ملاقات کے وقت سلام کرنا اور کوئی کام کرنے سے پہلے ﷽ پڑھنا، کرداروں کویہ سب کرتے ہوئے دکھایا جاتا تھا۔ کہانی کا موضوع ایسا ہوتا تھا کہ جس سے اخلاقی تربیت بھی ہوتی تھی۔ بچوں کو والدین کا اور بیوی کو شوہر کا ادب کرنا سکھایا جاتا تھا۔ خواتین کو مہذب لباس نہ پہننے پر ٹوکا جاتا تھا اور ساتھ ہی ایمان و اتحاد کی تعلیم دی جاتی تھی۔
مثال کے طور پر ایک پنجابی فلم کے سین میں منور ظریف اپنی بیوی کو مخلوط محفل میں ناچتے دیکھ کر اس کو روکتا ہے اور ایسے ڈائلاگ ادا کرتا ہے کہ جس سے اس کام کی کراہیت ظاہر ہوتی ہے۔ اسی طرح عمر شریف کے اس زمانے کے اسٹیج شو میں مسلمانوں کو لسانیت سے بچنے کا سبق ہنستے کھیلتے دیا جاتا تھا، اس زمانے میں لسانی فسادات عام تھے اس لئے یہ نصیحتیں لوگوں کو کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتی تھیں۔ کئی فلموں میں کرداروں کو مصیبت میں اللہ سے رجوع ہوتے ہم دیکھ سکتے ہیں اور سچ بولنا، کرپشن سے بچنا، ملک سے محبت جیسی باتیں کہانی کے درمیان مل جاتی تھیں۔
لیکن بدقسمتی سے اب ہمارا میڈیا ایسے لوگوں کے ہاتھ میں آگیا ہے جو دین سے بالکل بے زار ہیں اور اپنے ناظرین کو مادی سوچ کی طرف لے جارہے ہیں۔ بےہودگی، بدتمیزی اور بد تہذیبی نمایاں نظر آنے لگی ہے۔ اب اونپر دی گئی مثال کے مقابل ایک فلم کے سین میں ہمایوں سعید اپنی بیوی کو بھی مخلوط محفل میں غیر مردوں کے ساتھ ناچتے ہوئے دیکھتا ہے تو اس پر غصہ کرتا ہے اور اسے اس کام سے روکنے کی کوشش کرتا ہے لیکن جناب اب ہوا کا رخ بدل گیا ہے، اب ڈائلاگ ہیرو نہیں بلکہ ہیروئین بولتی ہے جس میں ہمایوں سعید کوایک تنگ نظر اور ظالم شوہر ثابت کرتی ہےجواپنی بیوی پر بےوجہ پابندیاں لگاتا ہے اور بعد میں موصوف خود بھی شرمندہ نظر آرہے ہوتے ہیں۔
یگر فلموں اور ڈراموں میں مولویوں اور پٹھانوں کا مذاق اڑاتے ہوئے دکھایا جا رہا ہے، ایک ڈرامے میں چار کردار نکاح کے لئے آئے مولوی کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کو پہلا کلمہ آتا ہے یا نہیں، تو ایک کردار بولتا ہے کہ پہلا کلمہ تو سب تو آتا ہے اس سے چوتھا کلمہ سننا چاہئے۔ اب جو کردار ہیں اور ڈرامہ بنانے والے جتنے لوگ ہیں ان میں سے کتنوں کو چوتھا کلمہ آتا ہوگا؟ ایک فلم میں لڑکی کا رشتہ کسی مولوی ٹائپ کا آجاتا ہے تو لڑکی سر پر دوپٹہ ڈال کر لڑکے سے ملتی ہے، لڑکا اس کو عطر کا تحفہ دیتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ الکوحل سے پاک ہے اور اس کو لگانے کے بعد بھی نماز ادا ہو جاتی ہے، یہ سن کر لڑکی غصے سے اپنا دوپٹہ اتار کر وہاں سے چلی جاتی ہے۔ اب آپ خود سوچیں کہ اس سین سے یہ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟
مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کل انڈین فلمیں تو معیاری موضوعات کی بن رہی ہیں جس میں معاشرے میں موجود غلط رویوں کی نشاندہی اور اچھے رویوں کو اجاگر کیا جا رہا ہے لیکن ہماری فلمیں ان آداب و موضوعات سے خالی ہیں۔ ایک پاکستانی فلم "لوڈ ویڈنگ" کو ایک تعمیری موضوع والی فلم قرار دیا جا سکتا ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسی ہی فلمیں اور ڈرامے بنائے جائیں۔
Comments
Post a Comment
آپ کی رائے ہمارے لئے بہت قیمتی ہے۔