Skip to main content

حقوقِ نسواں اور اسلام

 حقوقِ نسواں اور اسلام

اسلام کس طرح مرد اور عورت میں برابری نہیں ہونے دیتا اور دین میں مرد اور عورت کی تفریق کس طرح سے ہےاس مضمون میں تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔

اسلام ایسا مذہب ہے جو کچھ معاملات میں عورتوں کو مردوں کی برابری نہیں کرنے دیتا۔ عبادات میں مرد اور خواتین کو برابر اجر ملتا ہے لیکن دیگر شعبوں میں عورتوں کا اجر مرد سے الگ ہے۔ خواتین کو معاش کی فکر سے آزادی دے کر گھر اور خاوند کی ذمہ داری دے دی، ایک طرح سے عورت کو پورے گھر کا مالک بنادیا۔ جبکہ اب خواتین یہ چاہتی ہیں کہ پڑھ لکھ کر 35 سے 40 ہزار کی نوکری کریں۔ صبح سے شام تک بغیر آرام کے دفتر کا کام کریں (بینک میں تو اکثر رات تک کام کرنا پڑتا ہے)، بسوں ویگنوں اور چنچیوں میں سفر کریں تو یہ عورت خود کو آزاد اور کامیاب سمجھتی ہے۔ کئی عشروں سے خواتین کے ہاتھ میں تمام خانگی معاملات آگئے ہیں، مرد خارجی مسائل کے پیش نظر اب گھریلو مسائل میں عورتوں کی اطاعت کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن عورتیں اس کو غلامی سے تشبیہ دے رہی ہیں، انکے خیال میں دفاتر میں افسران کی اطاعت کرنا ہی اصل زندگی ہے اور گھر میں خواتین اپنی صلاحیتوں کو ضائع کررہی ہیں۔

 اسلام میں برابری کے تصور کی نفی کرتے ہوئے ماں کے قدموں تلے جنت کی بشارت دی گئی ہے جبکہ باپ کے متعلق ایسی کوئی بشارت موجود نہیں۔ اولاد کو بھی حکم ہے کہ ماں کو تین گناہ افضلیت دی جائے پھر جاکے باپ کا نمبر آتا ہے۔ اگر زوج کو خاوند کی اطاعت کا متنازع (آزاد خیال عورتوں کی نگاہ میں) حکم دیا گیا ہے تو تمام اولاد کو چاہے انکی تعداد جتنی زیادہ ہو ان سب کو ماں کی اطاعت کا حکم ہے۔ بظاہر تو یہ بات عورتوں سے ہضم نہیں ہورہی چناچہ نتیجتاً ازواج اپنے خاوند کی نافرمانی کررہی ہیں اور اولاد کی نافرمانیاں بھگت رہی ہیں۔ جب عورتیں اعتراض کریں کہ وہ اپنے خاوند کی اطاعت نہیں کرسکتیں تو اولاد کو بھی یہ حق ہے کہ وہ ماں کی اطاعت نہ کریں۔

 اولاد کی پرورش کی ذمہ داری مرد اور عورت دونوں پر عائد کی گئی ہے۔ جبکہ نان نفقہ صرف مرد کی ذمہ داری ہے۔ اب آزاد خیال اور برابری کے تصوروالے ممالک کو دیکھا جائے تو اکثر خواتین اپنے بچے اکیلے سنبھال رہی ہوتی ہیں بغیر کسی معاشی مدد کے، اور کہیں مرد اکیلا اولاد کی دیکھ بھال کررہا ہوتا ہے تو ہمارے ہاں بھی عورت آزادی حاصل کرکے اپنی اولاد کو اکیلے پل پوس کر جوان کرسکے گی۔ ایک اور جگہ اسلام مرد اور عورت میں تفریق کرتا ہے۔ مردوں کو حکم ہے کہ عورتوں کے معاملے میں نرمی سے پیش آئیں۔ اس لئے اسلامی معاشرے میں عورتوں کو آرام پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انکو لائن میں نہیں لگنا پڑتا۔ بسوں میں انکے لئے نشست خالی کردی جاتی ہے۔ دفاتر میں کسی بھی تکلیف کی صورت میں انکو چھٹی مل جاتی ہے خاص طور پر زچگی میں عورت کو پورے تین مہینے کی چھٹی تنخواہ کے ساتھ مل جاتی ہے۔ جبکہ ایسے ممالک جہاں عورتیں مردوں کے برابر ہیں وہاں ایسا کوئی تصور نہیں۔ تو اب حقوقِ نسواں کی تحریک ہی عورتوں کو اس طرح کے آرام سے بچاسکتی ہیں۔

 اسلام میں عورت کے تحفظ پر زور دیا گیا ہے، کیونکہ عورت فطری اعتبار سے نازک ہوتی ہے۔ لیکن روشن خیال معاشرہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہا ہے کہ عورت اپنی حفاظت خود کرسکتی ہے مزید یہ کہ وہ اتنی نازک نہیں جتنا تنگ نظر مرد سمجھتے ہیں۔ وہ ہر قسم کے حالات کا سامنا کرسکتی ہے۔ کچھ عرصے سے ہمارا میڈیا خواتین کو موٹر سائکل چلانے کی ترغیب دے رہا ہے تاکہ وہ آزادی سے سفر کرسکیں۔ اور چونکہ عورت اتنی نازک نہیں تو وہ پیٹرول ختم ہونے، ٹائر پنکچر اور موٹر سائکل کے خراب ہونے کی صورتحال کا مقابلہ باآسانی کرسکتی ہے۔ بالفرض اگر موٹر سائکل کسی سنسان علاقے میں بند ہوجائے تو وہ مردوں کی طرح حالات کا مقابلہ کرسکتی ہے۔ 

الغرض دینِ اسلام عورتوں کو مرد کی برابری سے بچا رہا ہے لیکن اب عورت اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کررہی ہے اور لگتا ہے کہ وہ مردوں کے شانہ بہ شانہ چلنے میں کامیاب ہوجائے گی۔

Comments

Popular Posts

نواز شریف

جب سے مملکتِ پاکستان کا قیام وجود میں آیا ہے تب سے ہی یہاں سیاسی استحکام کا فقدان رہا ہے۔ قائدِ اعظمؒ، لیاقت علی خانؒ اور دیگر حکمرانوں نے کچھ عرصہ تک ہی حکومت کی ذمہ داریاں اٹھائیں، لیکن باقائدہ حکومت کا آغاز جنرل ایوب خان کی صدارت سے شروع ہوا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسی دورِ حکومت میں پاکستان نہ صرف اپنے پیروں پر کھڑا ہوا بلکہ اس کا شمار ایشیاء کے ترقی یافتہ ممالک میں ہونے لگا۔ پاکستان کے خلاف سازش کرنے والے عناصر جانتے تھے کہ جب بھی یہاں مستحکم حکومت ہوگی تو ملک ترقی کرے گا۔ لہٰذا مختلف ذرائع استعمال کرکے ہمارے دشمن پاکستانی قوم میں مایوسی پھیلاتے رہے اور اس وقت کی موجود، حکومت کے خلاف الزامات کے ذریعے لوگوں کو حکومت سے بیزار کرنے کی کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ پرویز مشرف جیسے امریکہ کو سجدہ کرنے والے، وقت کے فرعون، کو بھی حکومت سے محروم ہونا پڑا۔ پاکستانی عوام میں تعلیم اور شعور کی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ باآسانی سازشوں کا شکار ہوجاتے ہیں اور تبدیلی کی خواہش مند ہوجاتے ہیں۔ یہ نہیں غور کرتے کہ حکومت مستحکم ہے، ترقیاتی کام چل رہے ہیں، زندگی اچھی گزر رہی ہے، تمام کاروبارِ زندگی عمد...

داڑھی کا جواز

  داڑھی کا جواز اگر کوئی شخص کہے کہ سر پر ہمیشہ استرا پھیرنا چاہیے تاکہ انسان بالوں سے پیدا ہونے والی پریشانیوں سے بچا رہے، اگر بال ہونگے تو جوئیں بھی ہونگی، بال لمبے ہوکر منہ پر آئیں گے، بال ہوا سے بکھر تے رہیں گے اور انسان ان میں جنگلی لگے گا لہٰذا سر کے بالوں کے بغیر انسان زیادہ خوبصورت لگے گا، تو ایسے شخص کو آپ کیا جواب دیں گے؟ ظاہر ہے کہ اس شخص کو کہا جائے گا کہ بال اگنا ایک قدرتی عمل ہے، اس کو روکنے کے بجائے ہمیں ان کو آراستہ کرنا چاہیے، ان کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا چاہیے تو یہ بال ہماری شخصیت میں خوبصورتی کا باعث بنیں گے بہ نسبت ٹنڈ کے! یہی جواب اصل میں داڑھی کے جواز کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کیلئے فتاویٰ کی ضرورت نہیں۔ قدرت نے داڑھی مرد کو عطاء کی ہے۔ اب مردوں کا کام ہے کہ اپنے چہروں کو روزانہ چھیلنے کے بجائے داڑھی کو بڑھنے دیں اور اس کو آراستہ کریں اور اپنی مردانگی کا ثبوت اپنے چہروں سے دیں۔ کچھ لوگ اپنی گفتگو میں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ فلاں شخص داڑھی رکھ کے جھوٹ بول رہا ہے، یا کچھ افراد نے داڑھی رکھی ہوئی ہے اور خواتین کو دیکھتے پھرتے ہیں۔ ایسے لوگ...

ناران کی سیر

 ناران کی سیر راولپنڈی سے ناران کے سفر کی روداد جو ذاتی مشاہدے پر مشتمل ہے۔ اس سفرنامے میں مزید اہم مقامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اپنے شہر سے دور کوئی بھی سفر کرنے سے پہلے اس سے متعلق معلومات حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ شمالی علاقوں کا تفریحی دورہ کرنا ہو اور ہر قسم کی مشکلات سے محفوظ رہنا چاہتے ہوں تو بہتر ہے کہ کسی سیاحتی گروپ یا کمپنی کے ساتھ سفر کیا جائے۔ سیاحتی کمپنی کے خرچے تو زیادہ ہوتے ہیں لیکن یہ آپ کو اتنی سہولیات فراہم کرتی ہیں کہ آپ ہر قسم کی کوفت سے بچ جاتے ہیں۔ اگر آپ محدود خرچے میں ناران کی سیاحت کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو راولپنڈی سے گائڈ کی خدمات حاصل کرنا ہونگی، اس کیلئے آپ پہلے سے معاوضہ اور مقامات طے کرسکتے ہیں۔ کچھ گائڈ آپ کو مناسب داموں میں ہوٹل کے کمرے اور طعام کا بندوبست کرواسکتے ہیں۔ جتنا تجربے کار گائڈ آپ کو ملے گا اتنا ہی آپ کا سیاحتی سفر بہتر ہوگا۔ جو حضرات اپنے گھر کی خواتین اور بچوں کے ساتھ ناران کا سفر کرنا چاہتے ہیں تو یہ بات مدِنظر رکھیں کہ ان کو طویل سفر کرنا ہوتا ہے اور آپ کو آرام کے کم مواقع میسر آسکتے ہیں۔ مجوعی طور پر یہ سیاحتی دورہ آپ کو تھکن میں مبت...