Skip to main content

معاشرے میں منفرد نام رکھنے کا رجحان

 معاشرے میں منفرد نام رکھنے کا رجحان

ہمارے معاشرے میں لوگ اپنے بچوں کے منفرد نام رکھنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے کئی عجیب وغریب نام سامنے آرہے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ بچوں کے ناموں کے معاملے میں بھیڑ چال کا شکار ہوگئے ہیں، منفرد نام رکھنے کی کوشش میں اکثریت ایسے نام رکھ رہی ہے جو اسم معرفہ کی تعریف پر پورا نہیں اترتے بلکہ کئی تو فعل کہلاتے ہیں۔ ایک بزرگ سے کسی شخص نے پوچھا کہ حضرت کوئی ایسا منفرد نام بتائیں جو روئے زمین پر کسی نے نہ رکھا ہو۔ تو وہ بزرگ بولے کہ تم اپنے لڑکے کا نام ابلیس رکھ لو، یہ نام روئے زمین پر کسی انسان نے نہیں رکھا۔ وہ صاحب ناراض ہو گئے، بولے کوئی مناسب نام بتائیں، تو بزرگ نے کہا " ایسا کرو تم عزازیل نام رکھ لو یہ بھی منفرد ہے" یہ سن کر وہ صاحب غصے میں وہاں سے چل دئے۔ تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ منفرد نام رکھنے کا خبط اب عام ہو گیا ہے۔

ایک بزرگ جن کا تعلق تصوف سے ہے وہ کہتے ہیں کہ بچوں کے نام سادہ اور آسان رکھنے چاہئے، کیونکہ اس سے بچے کی شخصیت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر علی، عمر، حامد، ابراھیم، یوسف اور لڑکیوں میں ثناء، ہما، صبا، عائشہ، جمیلہ سادہ اور آسانی سے ادا ہونے والے نام ہیں۔ اگر بچوں کے نام پیچیدہ ہوں تو انہیں ادا کرتے ہوئے بار بار الجھن کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور نتیجتاً ان کو نام کے بجائے عرفیت سے پکارا جاتا ہے جو کہ مناسب نہیں۔ مثال کے طور پر اگر بچے کا نام یوزاسف یا مہتشم ہو تو اسکو پکارنا آسان نہیں اور ہوسکتا ہے کہ لوگ انکو یوزا اور شما کے نام سے پکاریں۔

منفرد نام رکھنے کی ایک وجہ احساسِ کمتری بھی ہے۔ جو لوگ تعلیمی لحاظ سے پیچھے رہ جاتے ہیں وہ کوشش کرتے ہیں کہ ایسا کام کریں جس سے ان کا کم تعلیم یافتہ ہونے کا عیب چھپ جائے۔ جب کہ ہمارے سامنے تو انبیاءؑ، صحابہِ کرام رضوان اللہ اور اولیاء کرامؒ کے نام موجود ہیں تو ہمیں کیا ضرورت ہے کہ ہم دوسرے نام رکھیں۔

اگرچہ منفرد نام رکھنے ہی ہیں تو ایسے نام رکھیں جائیں جو اسم معرفہ ہوں۔ اب جو لوگ اقراء نام رکھتے ہیں تو اس کا مطلب ہے "پڑھ"، توہم بچے کو پکارتے ہوئے کہ رہے ہوتے ہیں کہ "پڑھ"۔ اب علمی لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ انتہائی نامناسب بات ہے۔ اسی طرح دعا نام ہے، تو دعا اچھی بھی ہوتی ہے اور بری بھی تو اس نام سے کچھ پتا نہیں چلتا کہ کیا معنے ہیں۔ ایک نام "آذان" لوگ رکھ رہے ہیں جس کا مطلب پکار کے ہیں، لہٰذا یہ نام بھی اسم معرفہ کی تعریف پر پورا نہیں اترتا۔

کچھ نام قرآن شریف سے لئے جاتے ہیں تو ان میں بھی اسم، فعل اور صفت کا خیال نہیں رکھا جارہا۔ مثال کے طور پر "انعمتا"، "الم نشرح" ایسے نام ہیں جن کا کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ کیا سوچ کر رکھے گئے ہیں۔ کچھ نام ایسے ہیں جو لڑکوں کے ہیں اور لڑکیوں کے رکھ دئے جاتے ہیں، مثال کے طور پر ایک لڑکی کا نام ربیعہ سنا، بعد میں ایک کتاب میں پڑھا کہ یہ تو ایک صحابیِ رسول کام نام ہے، تو اگر نام رابیعہ ہوتا تو کیا بہتر نہ تھا؟

Comments

Popular Posts

نواز شریف

جب سے مملکتِ پاکستان کا قیام وجود میں آیا ہے تب سے ہی یہاں سیاسی استحکام کا فقدان رہا ہے۔ قائدِ اعظمؒ، لیاقت علی خانؒ اور دیگر حکمرانوں نے کچھ عرصہ تک ہی حکومت کی ذمہ داریاں اٹھائیں، لیکن باقائدہ حکومت کا آغاز جنرل ایوب خان کی صدارت سے شروع ہوا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسی دورِ حکومت میں پاکستان نہ صرف اپنے پیروں پر کھڑا ہوا بلکہ اس کا شمار ایشیاء کے ترقی یافتہ ممالک میں ہونے لگا۔ پاکستان کے خلاف سازش کرنے والے عناصر جانتے تھے کہ جب بھی یہاں مستحکم حکومت ہوگی تو ملک ترقی کرے گا۔ لہٰذا مختلف ذرائع استعمال کرکے ہمارے دشمن پاکستانی قوم میں مایوسی پھیلاتے رہے اور اس وقت کی موجود، حکومت کے خلاف الزامات کے ذریعے لوگوں کو حکومت سے بیزار کرنے کی کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ پرویز مشرف جیسے امریکہ کو سجدہ کرنے والے، وقت کے فرعون، کو بھی حکومت سے محروم ہونا پڑا۔ پاکستانی عوام میں تعلیم اور شعور کی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ باآسانی سازشوں کا شکار ہوجاتے ہیں اور تبدیلی کی خواہش مند ہوجاتے ہیں۔ یہ نہیں غور کرتے کہ حکومت مستحکم ہے، ترقیاتی کام چل رہے ہیں، زندگی اچھی گزر رہی ہے، تمام کاروبارِ زندگی عمد...

داڑھی کا جواز

  داڑھی کا جواز اگر کوئی شخص کہے کہ سر پر ہمیشہ استرا پھیرنا چاہیے تاکہ انسان بالوں سے پیدا ہونے والی پریشانیوں سے بچا رہے، اگر بال ہونگے تو جوئیں بھی ہونگی، بال لمبے ہوکر منہ پر آئیں گے، بال ہوا سے بکھر تے رہیں گے اور انسان ان میں جنگلی لگے گا لہٰذا سر کے بالوں کے بغیر انسان زیادہ خوبصورت لگے گا، تو ایسے شخص کو آپ کیا جواب دیں گے؟ ظاہر ہے کہ اس شخص کو کہا جائے گا کہ بال اگنا ایک قدرتی عمل ہے، اس کو روکنے کے بجائے ہمیں ان کو آراستہ کرنا چاہیے، ان کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا چاہیے تو یہ بال ہماری شخصیت میں خوبصورتی کا باعث بنیں گے بہ نسبت ٹنڈ کے! یہی جواب اصل میں داڑھی کے جواز کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کیلئے فتاویٰ کی ضرورت نہیں۔ قدرت نے داڑھی مرد کو عطاء کی ہے۔ اب مردوں کا کام ہے کہ اپنے چہروں کو روزانہ چھیلنے کے بجائے داڑھی کو بڑھنے دیں اور اس کو آراستہ کریں اور اپنی مردانگی کا ثبوت اپنے چہروں سے دیں۔ کچھ لوگ اپنی گفتگو میں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ فلاں شخص داڑھی رکھ کے جھوٹ بول رہا ہے، یا کچھ افراد نے داڑھی رکھی ہوئی ہے اور خواتین کو دیکھتے پھرتے ہیں۔ ایسے لوگ...

ناران کی سیر

 ناران کی سیر راولپنڈی سے ناران کے سفر کی روداد جو ذاتی مشاہدے پر مشتمل ہے۔ اس سفرنامے میں مزید اہم مقامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اپنے شہر سے دور کوئی بھی سفر کرنے سے پہلے اس سے متعلق معلومات حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ شمالی علاقوں کا تفریحی دورہ کرنا ہو اور ہر قسم کی مشکلات سے محفوظ رہنا چاہتے ہوں تو بہتر ہے کہ کسی سیاحتی گروپ یا کمپنی کے ساتھ سفر کیا جائے۔ سیاحتی کمپنی کے خرچے تو زیادہ ہوتے ہیں لیکن یہ آپ کو اتنی سہولیات فراہم کرتی ہیں کہ آپ ہر قسم کی کوفت سے بچ جاتے ہیں۔ اگر آپ محدود خرچے میں ناران کی سیاحت کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو راولپنڈی سے گائڈ کی خدمات حاصل کرنا ہونگی، اس کیلئے آپ پہلے سے معاوضہ اور مقامات طے کرسکتے ہیں۔ کچھ گائڈ آپ کو مناسب داموں میں ہوٹل کے کمرے اور طعام کا بندوبست کرواسکتے ہیں۔ جتنا تجربے کار گائڈ آپ کو ملے گا اتنا ہی آپ کا سیاحتی سفر بہتر ہوگا۔ جو حضرات اپنے گھر کی خواتین اور بچوں کے ساتھ ناران کا سفر کرنا چاہتے ہیں تو یہ بات مدِنظر رکھیں کہ ان کو طویل سفر کرنا ہوتا ہے اور آپ کو آرام کے کم مواقع میسر آسکتے ہیں۔ مجوعی طور پر یہ سیاحتی دورہ آپ کو تھکن میں مبت...