Skip to main content

Posts

Featured Post

ناران کی سیر

 ناران کی سیر راولپنڈی سے ناران کے سفر کی روداد جو ذاتی مشاہدے پر مشتمل ہے۔ اس سفرنامے میں مزید اہم مقامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اپنے شہر سے دور کوئی بھی سفر کرنے سے پہلے اس سے متعلق معلومات حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ شمالی علاقوں کا تفریحی دورہ کرنا ہو اور ہر قسم کی مشکلات سے محفوظ رہنا چاہتے ہوں تو بہتر ہے کہ کسی سیاحتی گروپ یا کمپنی کے ساتھ سفر کیا جائے۔ سیاحتی کمپنی کے خرچے تو زیادہ ہوتے ہیں لیکن یہ آپ کو اتنی سہولیات فراہم کرتی ہیں کہ آپ ہر قسم کی کوفت سے بچ جاتے ہیں۔ اگر آپ محدود خرچے میں ناران کی سیاحت کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو راولپنڈی سے گائڈ کی خدمات حاصل کرنا ہونگی، اس کیلئے آپ پہلے سے معاوضہ اور مقامات طے کرسکتے ہیں۔ کچھ گائڈ آپ کو مناسب داموں میں ہوٹل کے کمرے اور طعام کا بندوبست کرواسکتے ہیں۔ جتنا تجربے کار گائڈ آپ کو ملے گا اتنا ہی آپ کا سیاحتی سفر بہتر ہوگا۔ جو حضرات اپنے گھر کی خواتین اور بچوں کے ساتھ ناران کا سفر کرنا چاہتے ہیں تو یہ بات مدِنظر رکھیں کہ ان کو طویل سفر کرنا ہوتا ہے اور آپ کو آرام کے کم مواقع میسر آسکتے ہیں۔ مجوعی طور پر یہ سیاحتی دورہ آپ کو تھکن میں مبت...
Recent posts

داڑھی کا جواز

  داڑھی کا جواز اگر کوئی شخص کہے کہ سر پر ہمیشہ استرا پھیرنا چاہیے تاکہ انسان بالوں سے پیدا ہونے والی پریشانیوں سے بچا رہے، اگر بال ہونگے تو جوئیں بھی ہونگی، بال لمبے ہوکر منہ پر آئیں گے، بال ہوا سے بکھر تے رہیں گے اور انسان ان میں جنگلی لگے گا لہٰذا سر کے بالوں کے بغیر انسان زیادہ خوبصورت لگے گا، تو ایسے شخص کو آپ کیا جواب دیں گے؟ ظاہر ہے کہ اس شخص کو کہا جائے گا کہ بال اگنا ایک قدرتی عمل ہے، اس کو روکنے کے بجائے ہمیں ان کو آراستہ کرنا چاہیے، ان کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا چاہیے تو یہ بال ہماری شخصیت میں خوبصورتی کا باعث بنیں گے بہ نسبت ٹنڈ کے! یہی جواب اصل میں داڑھی کے جواز کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کیلئے فتاویٰ کی ضرورت نہیں۔ قدرت نے داڑھی مرد کو عطاء کی ہے۔ اب مردوں کا کام ہے کہ اپنے چہروں کو روزانہ چھیلنے کے بجائے داڑھی کو بڑھنے دیں اور اس کو آراستہ کریں اور اپنی مردانگی کا ثبوت اپنے چہروں سے دیں۔ کچھ لوگ اپنی گفتگو میں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ فلاں شخص داڑھی رکھ کے جھوٹ بول رہا ہے، یا کچھ افراد نے داڑھی رکھی ہوئی ہے اور خواتین کو دیکھتے پھرتے ہیں۔ ایسے لوگ...

نواز شریف

جب سے مملکتِ پاکستان کا قیام وجود میں آیا ہے تب سے ہی یہاں سیاسی استحکام کا فقدان رہا ہے۔ قائدِ اعظمؒ، لیاقت علی خانؒ اور دیگر حکمرانوں نے کچھ عرصہ تک ہی حکومت کی ذمہ داریاں اٹھائیں، لیکن باقائدہ حکومت کا آغاز جنرل ایوب خان کی صدارت سے شروع ہوا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسی دورِ حکومت میں پاکستان نہ صرف اپنے پیروں پر کھڑا ہوا بلکہ اس کا شمار ایشیاء کے ترقی یافتہ ممالک میں ہونے لگا۔ پاکستان کے خلاف سازش کرنے والے عناصر جانتے تھے کہ جب بھی یہاں مستحکم حکومت ہوگی تو ملک ترقی کرے گا۔ لہٰذا مختلف ذرائع استعمال کرکے ہمارے دشمن پاکستانی قوم میں مایوسی پھیلاتے رہے اور اس وقت کی موجود، حکومت کے خلاف الزامات کے ذریعے لوگوں کو حکومت سے بیزار کرنے کی کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ پرویز مشرف جیسے امریکہ کو سجدہ کرنے والے، وقت کے فرعون، کو بھی حکومت سے محروم ہونا پڑا۔ پاکستانی عوام میں تعلیم اور شعور کی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ باآسانی سازشوں کا شکار ہوجاتے ہیں اور تبدیلی کی خواہش مند ہوجاتے ہیں۔ یہ نہیں غور کرتے کہ حکومت مستحکم ہے، ترقیاتی کام چل رہے ہیں، زندگی اچھی گزر رہی ہے، تمام کاروبارِ زندگی عمد...

مسلمانوں میں گروہ بندی اور ہمارا کردار

 مسلمانوں میں گروہ بندی اور ہمارا کردار مسلمانوں اور پاکستانیوں میں جو مختلف گروہ اس وقت ہیں انکی موجودگی میں ہمارا کیا کردار ہونا چاہئے۔ کسی گروہ میں شمولیت کس بنیاد پر کی جائے اس سے متعلق آپ یہ مضمون پڑھیں گے۔ مسلمانوں کی تاریخ گروہ بندی اور اختلافات سے بھری ہوئی ہے۔ بیرونی سازشوں کے نتیجے میں مسلمان رنگ، نسل، زبان، قبیلہ سیاست اور عقائد پر تقسیم در تقسیم ہوتے رہے۔ جب تک نبیِ کریم ﷺ موجود رہے مسلمان تمام اختلافات سے بچے رہے۔ لیکن آپﷺ کے پردہ فرمانے کے بعد سب سے پہلا اختلاف خلافت کے معاملے میں پیش آیا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی ایمانی بصیرت کی بدولت یہ اختلاف باقی نہ رہا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے گیارہ سال کامیابی سے خلافت کے امور ادا کئے لیکن خفیہ سازشوں کی وجہ سے مسلمانوں میں خلافت پر اختلاف پیدا ہوا اور خلیفہ سوئم شہید کردئے گئے۔ اس کے بعد پھر مسلمان کبھی ایک نہ ہوسکے۔ مملکت پاکستان کی بات کریں تو اس کے قیام کے سلسلے میں بھی ہندوستان کے مسلمانوں میں شدید اختلاف رہا۔ بہرحال اللہ کی مدد سے پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا اور یہاں کے مسلمان ایک ہوکے رہے۔ بدقسمتی سے حک...

اسلامی معاشرے کا دیگر سے تقابل، ایک مثبت سوچ

 اسلامی معاشرے کا دیگر سے تقابل، ایک مثبت سوچ اس بلاگ پوسٹ میں مثبت انداز میں اسلامی معاشرے کا دیگر سے تقابل کیا گیا ہے۔ اسلام ہمیں امن اور سلامتی کا درس دیتا ہے جس کا اثر مسلمان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نظر آتا ہے۔ کچھ دہائی قبل سے قوم میں ایک سازش کے ذریعے مایوسی اور ناامیدی کے جذبات پھیلائے جارہے ہیں۔ اب نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ اکثریت ملک سے بھاگنا چاہتی ہے۔ ان کو یہاں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔ لہٰذا اکثر افراد اپنی جمع پونجی، جائیدادیں فروخت کرکے دیگر ممالک جارہے ہیں۔ ہمارے ملک میں جو صحافت کا شعبہ ہے وہ زیادہ تر منفی خبریں پیش کرتا ہے۔ اپنی ریٹنگ بڑھانے کے چکر میں افسوسناک واقعات کو بہت بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے، لگتا ہے کہ ہمارے ہاں لوگ افراتفری کی زندگی گزاررہے ہیں۔ اگر کسی مذہبی شخصیت یا ادارے سے منسلک کوئی واقعہ رونما ہوجائے تو اس کی آڑ میں مذہبی اداروں اور شخصیات کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ معاشرے میں موجود تمام خرابیوں کے ذمہ دار صرف یہ مذہنی طبقہ ہے۔ اس کے علاوہ قوم کی نمائندگی کرنے والے افراد کی بھی سازش کے تحت کر...

عیدِ قربان میں ایک غلط رجحان

 عیدِ قربان میں ایک غلط رجحان عیدِ قربان ایک مذہبی فریضہ ہے جس کا سال میں ایک ہی بار اعادہ ہوتا ہے۔ اس فریضے کی ادائگی میں زیادہ سے زیادہ اہتمام کرنا چاہئے کیونکہ یہ واجب بھی ہے اوراس کی ادائگی کیلئے دوسرے معاملات کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔ ہمارا دین ہمیں اللہ کے احکامات پر عمل کرنا سکھاتا ہے اور خود ساختہ اعمال سے اجتناب برتنے پر زور دیتا ہے۔ بدعات پر عمل کرنے والا سنت سے دور ہوجاتا ہے، یہ ایک فطری و نفسیاتی عمل ہے۔ عیدالاضحیٰ کے موقع پر تمام مسلمانوں کو جو فطرہ ادا کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں قربانی کا حکم دیا گیا ہے۔ شرعی لحاظ سے قربانی کا حکم واجبات میں آتا ہے۔ اس حکم کی ادائگی پر اتنا زیادہ زور دیا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کی رقم عارضی طور پر رک گئی ہے اور اس کو ملنے کا یقین ہو تو اس کو چاہئے کہ قرض لیکر قربانی کا فریضہ ادا کرے۔ شریعت میں بوجھ نہیں، لحاظہ ہر مسلمان اپنی حیثیت کے مطابق قربانی کرسکتا ہے۔  قربانی کے سہل فریضے کو چند افراد نے مشکل بنادیا ہے۔ اپنی مرضی کا جانور ہی ذبح کرنے کا عمل اس فریضے کو گراں کردیتا ہے۔ چند ہزار روپے میں گائے کا ایک حصہ لیکر بھی قربانی ادا ہوج...